میرا نام تیرے لبوں پہ ہو، میرا ذکر دل سے کیا بھی کر
تو جفا شعار مزاج کو، کبھی آشنائے وفا بھی کر

تیری یاد میں، تیری چاہ میں، مجھے چین ہے نہ قرار ہے
میری یاد میں، میری چاہ میں، کبھی بے قرار ہوا بھی کر

تیری جستجو تیری آرزو، میری زندگی کی نمود ہے
میری جستجو میری آرزو، کبھی زندگی میں کیا بھی کر


 


وہ جو راستہ وہ جو موڑ تھا، جہاں پہلی بار ملے تھے ہم
اسی راستے اسے موڑ پر، کسی شام آ کے ملا بھی کر

میری آس میں میری سانس میں، تیرا قرب ہے تیرا لمس ہے
کبھی آس میں کبھی سانس میں، میرا قربِ لمس بپا بھی کر

تیری راہ میں تیرے ساتھ میں، چلا جا رہا ہوں قدم قدم
میری راہ میں میرے ساتھ میں، کبھی دو قدم تو چلا بھی کر

تیرا واسطہ تیرا راستہ، میرے دل نطر سے جدا نہیں
میرا واسطہ میرا راستہ، تو بھی دل نظر میں رکھا بھی کر

یہ نصابِ مکتبِ عشق ہے، تو شریکِ درس ہوا تو سن
میں لکھا کروں تو پڑھا کرے، میں پڑھا کروں تو لکھا بھی کر

میرا نام بہرِ غزل میں اب نہ سما سکا، نہ سما سکے
میں ہوں کون تجھ کو یہ علم ہے، نہ سمجھ سکے تو پتہ بھی کر