راہِ طلب میں کون کسی کا ، اپنے بھی بیگانے ہیں
چاند سے مکھڑے رشکِ غزالاں سب جانے پہچانے ہیں

تنہائی سی تنہائی ہے ، کیسے کہیں ، کیسے سمجھائیں
چشم و لب و رخسار کی تہ میں روحوں کے ویرانے ہیں
...
اُف! یہ تلاشِ حسن و حقیقت کس جا ٹھہریں جائیں کہاں
صحنِ چمن میں پھول کھلے ہیں ، صحرا میں دیوانے ہیں

ہم کو سہارے کیا راس آئیں ، اپنا سہارا ہیں ہم آپ
خود ہی صحرا ، خود ہی دِوانے شمع نفس پروانے ہیں

بلآخر تھک ہار کے یارو ! ہم نے بھی تسلیم کیا !
اپنی ذات سے عشق ہے سچا ، باقی سب افسانے ہیں