آذاد ہُوا تھا دیس مگر
ہم آج تلک آذاد نہیں
یاں چور لٹیرے قابض ہیں
اور خلقِ خُدا کا راج نہیں
اَب نصف صدی کے پار کھڑے
اِک سوچ میں ہیں، یاں اہلِ وطن
نسلوں کی اِس فرمانبرداری میں
کیا کھویا اور کیا پایا ھے؟

طبقات میں بانٹ کے رکھا ھے
جیون کو، علم و دولت کو
لفظوں کے گورکھ دھندے میں
خوشحالی کے بہلاوے ہیں
غُربت کی با تیں فیشن ہیں
اِن اُمرا کے درباروں میں
محروم کھڑی ھے خلقِ خُدا
یاں دولت کے انباروں میں


 


فرقوں میں بانٹ کے خوش ہیں بہت
مذہب کے ٹھیکیدار ہمیں
جو دین محبت کا لے کر
نفرت کی دکانیں کرتے ہیں
سورج ظلمت کی بستی کے
مالک وہ سوچ کی پستی کے
"وہ جن کے سوا سب کافر ہیں
جو دین کا حرفِ آخر ہیں"

غیروں کی جنگوں میں ہم نے
نسلوں کا ایندھن ڈالا ھے
وہ ہاتھ گرےباں تک آئے
اِک عمر سے جن کو پالا ھے
اب امن سے ہم کو رہنے دو
اب اور نہ لاشے ڈھوئیں گے
بارود کے ڈھیروں میں کب تک
ہم بھوک کی فصلیں بوئیں گے؟