شرحِ فراق ، مدحِ لبِ مشکبو کریں
غربت کدے میں کس سے تری گفتگو کریں

یار
آشنا نہیں کوئی ، ٹکرائیں کس سے جام
کس دل رُبا کے نام پہ خالی سَبُو
کریں

سینے پہ ہاتھ ہے ، نہ نظر کو تلاشِ بام
دل ساتھ دے تو آج غمِ آرزو
کریں

کب تک سنے گی رات ، کہاں تک سنائیں ہم
شکوے گِلے سب آج ترے رُو بُرو
کریں

ہمدم حدیثِ کوئے ملامت سُنائیو
دل کو لہو کریں کہ گریباں رفو
کریں

آشفتہ سر ہیں ، محتسبو، منہ نہ آئیو
سر بیچ دیں تو فکرِ دل و جاں
عدو کریں


 


تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو"
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو
کریں

دستِ تہِ سنگ