Name:  552531_271901739590841_1724928262_n.jpg
Views: 392
Size:  9.2 KB




 



احمد فرار بچپن ہی سے ایک بگڑا ہوا بچہ تھا سکول کے زمانے میں پڑھائی میں اس کا جی نہیں لگتا تھا نت نئ شرارتوں سے پوری کلاس کو سر پر اٹھا لیتا نہ خود پڑھتا نہ کسی کو پڑھنے دیتا استادوں کا اس نے ناطقہ بند کر رکھا تھا اسے مار مار کر وہ عاجز آگۓ تھے اور حیران تھے کہ اس لونڈے کا کیا کریں ایک استاد بائیں کان سے بہرہ تھا ایک دفعہ اسے جو شرارت سوجھی تو اس کے بہرے کان کی طرف منہ کر کے کوئی ناروا بات کہہ دی، لیکن معاملہ گڑبڑ ہو گیا وہ اس کا دایاں کان تھا جو بہرہ نہیں تھا استاد بھڑک اٹھا اور فراز کی خوب پٹائی ہوئی
(فارغ بخاری)


ہوم ورک کر کے نہ لانے پر، فراز کو صبح ہی سخت سردی میں ہاتھوں پر بید کھانے پڑے دوسرے دن اس نے ماسٹر سے بدلہ لینے کی ایک نئ ترکیب سوچی، اسکول آٹھ بجے لگتا تھا لڑکے ساڑھے سات بجے تک گراؤنڈ میں پہنچ جاتے اور اسمبلی سے پہلے مختلف کھیل کھیلتے رہتے فراز نے اس صبح کلاس کے تمام لڑکوں کو سکھا دیا کہ جب ماسٹر گرلکھ سنگھ اسمبلی کے بعد میدان میں حاضری لے تو کوئی بھی اپنا رول نمر سن کر "یس سر" نہ کہے سو ایسا ہی ہوا پہلا نام سمیع الدین کا تھا دوسرا عبدالرزاق، غرض ایک خاموشی تھی گرلکھ سنگھ اس بے عزتی پر جھلا گیا فراز چونکہ نیا نیا داخل ہوا تھا اس لیے اس کا نام سب سے آخر میں تھا لہذا جب ماسٹر نے آخری نام پکارا تو اس نے کہا "یس سر" پرنسپل بھی وہاں موجود تھا اس نے یہ کاروائی دیکھی فراز کو پر نسپل اپنے کمرے میں لے گیا اور پوری کلاس کے ہاتھوں پر بید مارے اب فراز کو پتہ تھا میری خیر نہیں اس لیے وہ چپکے سے گھر بھاگ گیا اور کئ دن تک اسکول نہیں آیا
(توصیف تبسم)


فراز کی کسی بات پر پٹائی ہوتی تو اکثر بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہو جاتی تھی بید ہاتھ پر پڑتا تو بید کا دوسرا سرا مضبوطی سے ہاتھ میں تھام لیتا اب استاد اور شاگرد میں کھینچا تانی شروع ہو جاتی ماسٹر جھلا اٹھتا اور دیکھنے والے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے کلاس روم میں ڈیسک تھے جو تین قطاروں میں تھے کلاس انچارج گرلکھ سنگھ کی عادت تھی کہ وہ پیریڈ کے دوران، کلاس میں ڈیسکوں کے درمیان گھومتا رہتا تھا وہ جب فراز کے پاس سے گزرتا تو وہ فاؤنٹین پین اٹھا کر روشنائی اس کی پتلون یا قمیض کے پچھلے حصے پر چھڑک دیتا سفید پتلون پر روشنائی کے نقش و نگار دور ہی سے نظر آ جاتے تھے
(توصیف تبسم)


ماسٹر سونڈی تاریخ پڑھاتا تھا جہاں پیراگراف ختم ہوا "اور بابر نے پانی پت کی تیسری لڑائی جیت لئ" تو فراز ایک لمبی سی "اچھا" کہتا یہ اس بات کا اشارہ ہوتا کہ بات ہم سب کی سمجھ میں آ گئ ہے اور ماسٹر جوابا" لمبی سی "ہاں..ں..ں" کہتا ایک مرتبہ "ہاں" کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئ تو پوری کلاس کی ہنسی نکل گئ جس پر سونڈی کو غصہ آ گیا اور اس نے فراز کو بید مارنے شروع کر دئیے فراز نے حسب عادت بید کا سرا مٹھی میں پکڑ لیا اور اس کھینچاتانی میں ماسٹر کا غصہ بڑھتا گیا مارتے مارتے سونڈی نے فراز کو اسکول کے بڑے گیٹ سے باہر دھکیل دیا اور حکم دیا کہ کل باپ کو ساتھ لے کر آنا دوسرا دن آیا تو فراز کے ساتھ ایک لفنگا تھا جس کی شلوار کا ایک پائنچہ اوپر اور ایک نیچے تھا کندھے پر میلی چادر اور ہاتھ میں بٹیر اس لفنگے نے اسکول آکر اودھم مچا دیا عملے کے لوگ اس کو ہیڈ ماسٹر کے پاس لے گۓ ہیڈ ماسٹر نے فراز سے پوچھا: یہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ سر آپ ہی نے تو کہا تھا کہ باپ کو ساتھ لے کر آنا
(توصیف تبسم)


میں نے پیالی اٹھائی، چاۓ کا ایک گھونٹ لیا اور برا سا منہ بنا کر پیالی میز پر رکھ دی "اس میں تو چینی نہیں ہے"
فراز بولا "سامنے اتنے چینی پھر رہے کسی کو اٹھا کر ڈال لو(ہم اس وقت چین میں موجود تھے)
میز پر دودھ نہ دیکھ کر وہ چینی ویٹرس کو خاصی دیر سمجھانے کی کوشش کرتا رہا تھا کہ ہم چاۓ میں دودھ بھی ڈالتے ہیں جب ویٹرس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا تو اس نے انگھوٹھا منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا اور وہ زرد رو چینی لڑکی سچ مچ سرخ ہو گئ تھی اور اس کی سمجھ میں آ گیا تھا کہ ہم کیا مانگ رہے ہیں
(مسعود اشعر)


فراز صاحب سو رہے تھے فون کی گھنٹی بجی غصے میں فون اٹھایا تو دوسری طرف سے آواز آئی "میں یوسف لودھی بول رہا ہوں، ایک الجھن تھی اس لیے تمہیں فون کیا"
فراز نے کہا "فرمائیے"
لودھی نے کہا "بس اتنا بتا دو کہ یہ جو قہقہہ کا لفظ وہ قلم والے "کاف" سے ہے یا کتے والے "کاف" سے ؟
(اہل پنجاب کے یہاں "ق" اور "ک" کے مخرج میں کوئی خاص فرق نہیں)
فراز نے جل کر کہا "یوں تو قہقہہ قلم والے کاف سے ہے، اگر یہ قہقہے تمہارے ہیں تو پھر کتے والے کاف سے ہیں"
(توصیف تبسم)


ریاض انور نے خواجہ فرید کی ایک کافی فراز کو اردو ترجمہ کرنے کے لۓ دی اب سرائیکی میں محبوب کو "پنل"(پ ن ل) بھی کہتے ہیں ترجمہ کرتے ہوۓ کافی میں یہ لفظ آیا تو فراز سیدھا ریاض انور کی بیوی کے پاس پہنچا "بھابی یہاں "نپل"(ن پ ل) کا کیا مطلب ہے ؟ یہ نپل یہاں کیسے آ گیا ؟ وہ شریف عورت پہلے تو شرمائی پھر شرماتے شرماتے اس نے اس کا مطلب بتا دیا
(مسعود اشعر)


ڈیرہ غازی خان میں پچیس روپے کا ایک مشاعرہ پڑھنے میں اور محسن نقوی پہنچے وہاں احسان دانش، قتیل شفائی، عدم صاحب، فراز صاحب سبھی بڑے شاعر موجود تھے عدم کی جب باری آئی تو محفل عروج پر تھی عدم کو بہت داد ملی لوگ مسلسل انہیں داد دے رہے تھے عدم صاحب سے کھڑا نہیں ہوا جاتا تھا کسی نے کہا عدم صاحب کو کرسی لا کر دیں فراز نے بلند آواز سے کہا انہیں کرسی کی نہیں آیت الکرسی کی ضرورت ہے
(اصغر ندیم سید)


ایک دفعہ فراز کو اسلام آباد آنا تھا دوپہر کے کھانے کا وقت تھا ہم نے کہا چلو چائینز ریسٹورنٹ میں چل کر سوپ پی لیتے ہیں سوپ کے پیالے میں آخر میں ایک کنکر نظر آ گیا ہم دونوں نے شور مچا دیا وہ بے چارے ترلے منتیں کرتے رہے کہ دوسرے نہ سن لیں، جلدی سے ایک اور سوپ کا بھرا ہوا پیالہ لے آۓ، ہم نے وہ بھی سوپ پی لیا جب ہم اٹھ کر جانے لگے تو فراز نے کہا "اب ہم آئندہ اپنا کنکر ساتھ لے کر آئیں گے"
(کشور ناہید)


ضیاء جعفری نے حسب معمول تقریر لکھی اور فراز کو دے دی کہ ذرا اس کو دیکھ لو فراز کو جو شرارت سوجھی تو اس نے جہاں "کا" وہاں "کی" کر دیا اور جہاں "کی" تھا وہاں " کے" کر دیا اور جہاں "کے" تھا وہ "کا" بنا دیا اب جو ضیاء جعفری اسکرپٹ لے کر مائیک پر آۓ تو کچھ اس قسم کی تقریر ہوئی:
"محرم الحرام کی مہینہ، معاف کیجۓ کا مہینہ تمام دنیا کا مسلمانوں، نہیں کے مسلمانوں کے لۓ ایک متبرک اور حد درجہ محترم مہینہ ہے یہ سانحہ جس کا نظیر، جی نہیں جس کی نظیر دنیا کے تاریخ، معاف کیجۓ، دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی، ایک انتہائی دلگداز واقع ہے"
(توصیف تبسم)


میں اپنے بچوں کے ساتھ لنچ کر رھی تھی کہ فراز ثمینہ پیر زادہ اور ثمینہ راجہ کے ساتھ داخل ہوۓ، ملاقات ہوئی تو میں نے کہا "واہ کیا کہنے ایک چھوڑ دو دو ثمینائیں"
کہنے لگے "ہاں بھئ دن میں تو ثمینائیں ہوتی ہیں، شام کو مینائیں(مینا کی جمع) ہوتی ہیں" فراز نے فورا" ثمینہ کا قافیہ ساغر و مینا سے ملاتے ہوۓ کہا
(شمیم اکرام الحق)


ایک بار کسی محفل میں جب میں داخل ہوئی تو فراز نے حسب عادت اٹھ کر کہا "لو جی میری بہن بھی آ گئیں" کچھ دیر بعد ایک صحافی آۓ تو انہوں نے بھی مجھے "باجی" کہہ کر سلام کیا اس پر فراز کی ایک دوست نے مجھ پر طنز کرتے ہوۓ کہا "کیا بات ہے سب تمہیں بہن کہتے ہیں اتنے بہت سے بھائی؟" اس سے پہلے میں کوئی جواب دیتی فراز فورا" بولے "تو اس میں کیا برائی ہے، برائی تو یہ ہے کہ کسی خاتون کے بہت سے عاشق ہوں" ان خاتون کا رنگ ایک دم زرد پڑ گیا اور محفل قہقہوں سے بھر گئ
(شمیم اکرام الحق)


1996ء میں لندن میں پاکستانی سفارت خانے میں ایک مشاعرہ منعقد ہوا وہاں پر احمد فراز نے جب اپنی غزل "سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں" سنائی تھی تو آخری شعر کا پہلا مصرعہ پڑھنے پر، "اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں" سامعین میں سے بے شمار لڑکیوں کی آواز ایک ساتھ گونج اٹھی تھی "ٹھہر جائیں، پلیز ٹھہر جائیں"
(ثروت محی الدین)