ناصر کيا کہتا پھرتا ہے، کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
ديوانہ ہے، ديوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے

کل جو تھا وہ آج نہيں، جو آج ہے کل مٹ جائے گا
روکھي سوکھي جو مل جائے، شکر کرو تو بہتر ہے
...
کل يہ تاب و تواں نہ رہے گي، ٹھنڈا ہو جائے گا لہو
نام خدا، ہو جواں ابھي، کچھ کر گزرو تو بہتر ہے

کيا جانے کيا رت بدلے، حالات کا کوئي ٹھيک نہيں
اب کے سفر ميں تم بھي ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے

کپڑے بدل کر، بال بنا کر، کہاں چلے ہو، کس کے ليے
.................رات بہت کالي ہے ناصر، گھر ميں رہو تو بہتر ہے