PDA

View Full Version : the journey of life - urdu story



Naveed Farooq
11-12-2015, 11:39 AM
ایک شخص اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ اپنی لگژری کار پر کسی لمبے سفر کیلئے روانہ ہوا، ابھی یہ لوگ کچھ دور ہی گئے تھے کہ کسی عورت نے لفٹ لینے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ اُس شخص نے گاڑی روک دی، وہ عورت پاس آئی اور بولی "دیکھیں میرا نام "موسیقی" ہے، کیا آپ مجھے کچھ دور تک لفٹ دے سکتے ہیں۔۔؟"
آدمی نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اپنی بیوی اور پیچھے بیٹھے ہوئے اپنے بچوں سے پوچھا تو سب نے ہنسی خوشی "ہاں" کر دی، اور یوں "موسیقی" اُن کے ساتھ بیٹھ گئی۔ "موسیقی" سے وہ سب لوگ اتنے لطف اندوز ہوئے کہ اُسے اُتارنا ہی بھول گئے۔
یہ لوگ ابھی کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ دو اور عورتوں نے لفٹ مانگی، وہ دونوں بولیں، "دیکھیں! ہمارا نام "دولت" اور "شہرت" ہے، ہمیں اگلے اسٹاپ تک لفٹ چاہیے، کیا مل سکتی ہے۔۔؟"
اُس شخص نے پھر اپنی فیملی کی طرف جواب طلب نگاہوں سے دیکھا تو سب نے پھر ہنسی خوشی "ہاں" کر دی، اور یوں "دولت" اور "شہرت" بھی اُن کے ساتھ بیٹھ گئیں، وہ سب لوگ "دولت" اور "شہرت" سے بھی بہت جلد مانوس ہو گئے اور انہیں بھی اُتارنا بھول گئے۔
ابھی گاڑی کچھ ہی آگے بڑھی تھی کہ دو اور لوگوں نے لفٹ کیلئے اشارہ کیا، اُن کے پاس پہنچے تو وہ بولے ہمارا نام "غرور" اور "تکبر" ہے کیا ہمیں کچھ دور تک لفٹ میل سکتی ہے۔ چنانچہ اُن کو بھی ساری فیملی کی "رضا مندی" سے "ہاں" مل گئی۔ اور بہت جلد "غرور" اور "تکبر" نے بھی اُن سب لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لیا۔
گاڑی اپنی منزل کی طرف گامزن تھی کہ دو اُدھیڑ عمر عورتوں نے رُکنے کا اشارہ کیا، اُن کے پاس پہنچے تو پتہ چلا اُن کا نام "تقویٰ" اور "پرہیزگاری" ہے۔ اُس شخص نے نہایت ناگواری سے اپنی فیملی کی طرف دیکھا تو سب نے بُرا سا منہ بنا کر کہا، "نہیں نہیں، ہمیں "تقویٰ" اور "پرہیزگاری" کو لفٹ نہیں دینی، اور ویسے بھی گاڑی میں اب مزید جگہ خالی نہیں ہے۔۔!"۔ اور یوں وہ لوگ "تقویٰ" اور "پرہیزگاری" کو چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔
ابھی وہ لوگ کچھ مزید آگے بڑھے ہی تھے کہ ایک چیک پوسٹ نظر آئی، وہاں ایک پولیس والا کھڑا تھا، اُس نے اُس شخص کو کہا، "ہمیں پتہ چلا ہے کہ تم نے اپنی گاڑی میں ناجائز طور پر "موسیقی", "دولت", "شہرت", "غرور" اور "تکبر" کو لفٹ دے رکھی ہے، لہٰذا اِس جرم میں تجھے گرفتار کیا جاتا ہے۔۔۔!"
اور ساتھ ہی کہا "اگر تم اِن کی بجائے اُن دو بوڑھی عورتوں "تقویٰ" اور "پرہیزگاری" کو لفٹ دے دیتے تو تجھے اِس کا اچھا صلہ ملتا، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔"
اُس کے بعد وہ اُسے ایک کال کوٹھڑی کی طرف لے گیا، جس کے دروازے پر "موت" لکھا تھا۔ جب اِس شخص نے "موت" کو اپنے سامنے دیکھا تو اُسے اپنی گاڑی اور فیملی کا خیال آیا، وہ اِس خیال سے واپس پلٹا تو کیا دیکھا اُس کی بیوی پہلے ہی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکی تھی۔ جب پولیس والا اِسے "موت" کے حوالے کر رہا تھا تو اُس کی بیوی بڑی اسپیڈ سے گاڑی کو لے کر دھول اُڑاتی ہوئی اِس کے قریب سے گزر گئی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اِس شخص کی نگاہوں سے اُوجھل ہو گئی۔
یہ شخص "موت" کی کال کوٹھڑی کی جانب جاتا ہوا افسوس کے ہاتھ ملتا رہ گیا کہ جس "موسیقی", "دولت", "شہرت", "غرور" اور "تکبر" کو وہ اپنے زندگی کے سفر کے "ساتھی" سمجھتا رہا دراصل وہ سب "ناجائز" تھے۔
جو بیوی اُس کی "شریکِ حیات" تھی اُس نے ایک لمحہ بھی انتظار نہیں کیا اور اُس کے جاتے ہی اِس کی ہر چیز کی مالک بن بیٹھی تھی۔
اور جن بچوں کی خوشیوں کی خاطر وہ یہ سب حرام اور ناجائز کام کرتا رہا وہ اُسے "موت" کی مصیبت میں تنہا چھوڑ کے فرار ہو گئے تھے۔۔۔!"
"کاش! میں نے "تقویٰ" اور "پرہیزگاری" کو لفٹ دے دی ہوتی" وہ شخص افسوس کے آنسو رو رہا تھا، تبھی عزرائیل نے اِسے "موت" کی کال کوٹھڑی میں ڈال کے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دروازہ بند کر دیا۔!!

290767

Tahir Bati
12-02-2015, 02:00 PM
یہ ہم سب کی کہانی ہے ....