Tez gam train

تیز گام ٹرین آتش زدگی، ہلاکتوں کی تعداد 46 ہو گئی، آگ سلنڈر پھٹنے سے لگی، ریلوے حکام

رحیم یار خان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔31اکتوبر ۔2019ء) کراچی سے لاہور آنے والی تیز گام ایکسپریس میں آگ لگنے کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید کے مطابق مسافروں نے بوگی میں ناشتہ بنانے کیلئے گیس کا سلنڈر جلایا تھا جو دھماکے سے پھٹ گیا۔ آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3،4،5میں لگی۔شیخ رشید کے مطابق مسافر تبلیغی اجتماع رائیونڈ میں شرکت کیلئے لاہور جا رہے تھے۔
آگ بجھا دی گئی ہے ۔ کھاریاں اور ملتان میں برن یونٹس ہیں لہٰذا شدید زخمیوں کو رحیم یار خان منتقل کر دیا گیا ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ زیادہ تر ہلاکتیں مسافروں کے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسافر ٹرین میں سلنڈر کیسے پہنچے اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔ مسافر چولہے اپنے تھیلے میں رکھ دیتے ہیں۔

چھوٹے اسٹیشنوں پر سکینر کا نظام موجود نہیں لہٰذا تحقیقات کریں گے کہ مسافر کون سے سٹیشن سے سلنڈر لے کر چڑھے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے حادثے پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب تیز گام ایکسپریس آتشزدگی حادثے میں جاں بحق افراد کی تعدد 46 تک پہنچ گئی ہے۔ امدادی سرگرمیاں انجام دینے والے ریسکیو ہیڈ بہاولپور باقر حُسین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آتش زدگی کی لپیٹ میں آنے والی بوگیوں میں آگ بُجھا دی گئی ہے۔
اور اُن کی کولنگ کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔ جس کے بعد وہاں سے لاشیں نکالے جانے کا عمل جاری ہے۔ریسکیو ہیڈ کے مطابق اس واقعے میں اب تک 46 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کے دستے بھی امدادی کاموں میں حصہ لینے کی خاطر جائے حادثہ پر پہنچ چکے ہیں۔
آئی ایس پی آر کی میڈیکل کور کے ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ جبکہ زخمیوں کی اسپتالوں میں منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر بھی روانہ کر دیئے گئے ہیں۔ ڈی پی او رحیم یار خان امیر تیمور نے بھی 46 افرا د کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سے لاہور آ رہی تیز گام ایکسپریس میں رحیم یار خان کے قریب بوگیوں میں آگ بھڑک اُٹھی ہے جس میں 25مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
ڈی پی او رحیم یار خان جمیل احمد نے حادثے میں 25افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے مزیدہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ڈی پی او نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو ٹی ایچ کیو ہسپتال اور بہاول پور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ آگ پر قابو پایا جا چکا ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے واقعہ میں حادثے میں 13مسافروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔




سی ای او ریلوے اعجاز احمد کے مطابق مسافر ٹرین میں سلنڈر دھماکے سے 3بوگیوں میں آگ لگی جس میں ایک اکنامی اور بزنس کلاس بوگی شامل ہے جبکہ حادثے سے کوئی ٹریک متاثر نہیں ہوا اور ٹرینیں شیڈول کے مطابق چل رہی ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3،4،5میں لگی۔ تینوں متاثرہ بوگیوں کے زیادہ تر ٹکٹس ایک ہی مسافر کے نام پر بک کئے گئے تھے جس کی وجہ سے انفرادی نام نکالنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ ٹرین سے جلی ہوئی بوگیاں الگ کر کے ٹرین روانہ کر دی گئی ہے۔