Governer Punjab

آج نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا جائے گا . چوہدری سرور

 اردوپوائنٹ سے خبر لی گئی ہے

علاج کے لیے ہم نے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا، ہم سابق وزیراعظم کی صحت کو سیاست میں نہیں لانا چاہتے. گورنر پنجاب کی گفتگو

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 نومبر ۔2019ء) گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہاہے کہ امید ہے آج نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) سے نکال دیا جائے گا جس کے بعد وہ علاج کے لیے جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں. لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کے بارے میں سب فکر مند ہیں، ہم ان کی صحت پر کوئی رسک نہیں لینا چاہتے.




چوہدری سرور نے کہا کہ نواز شریف کے علاج کے لیے ہم نے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا، ہم نوازشریف کی صحت کو سیاست میں نہیں لانا چاہتے‘قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ حکومت ازخود کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالتی یا نکالتی نہیں ہے، حکومت کسی پرائیوٹ میڈیکل بورڈ کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ نہیں کرسکتی، سرکاری میڈیکل بورڈ کی رائے لی جائے گی.فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف قومی احتساب بیورو (نیب) کے ملزم ہیں، ہمیں نیب کی طرف سے درخواست موصول ہوئی جس میں شریف میڈیکل سٹی کے میڈیکل بورڈ کی سفارشات منسلک ہیں. یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا ای سی ایل سے خارج کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی‘تاہم نیب اور وزارت داخلہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے سے متعلق کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے تھے.چوہدری سرور نے کہا کہ قائد اعظم کے ویژن کے مطابق ہم نے اقلیتوں کو تحفظ دیا، پاکستان نے ثابت کیا کہ ہم اقلیتوں کو تحفظ دیتے ہیں‘انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں اقلیتوں کے لیے کرتار پور کی طرح دیگر اقلیتوں کی عبادت گاہیں کھول رہے ہیں. گورنر پنجاب نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت کی سپریم کورٹ نے ہندو انتہاپسندوں سے ڈرتے ہوئے بابری مسجد کو مندر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ملک میں لبرزم کو پروموٹ کریں گے اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کریں گے.چوہدری سرور نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے، ہماری تمام تر توجہ اس وقت کشمیر پر مرکوز ہے. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے سے کسی سیاسی جماعت نے کوئی فائدہ یا نقصان اٹھایا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اداروں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا چاہیے، دنیا بھر میں جہاں بھی اس وقت شورش ہے وہاں سب سے پہلے اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں.